حدیث نمبر: 4884
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ سِتَّ خِصَالٍ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لیے چھ خصلتیں ہیں: اس کو خون گرتے ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اسی وقت وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے، آہو چشم حور سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو عذابِ قبر سے پناہ دے دی جاتی ہے، وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتاہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جاتا ہے کہ اس کا ایک موتی دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے، بہتر آہو چشم حوروں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {لَا یَحْزُنُھُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَتَتَلَقّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ھٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔} … وہ بڑی گھبراہٹ ان (نیکی والوں) کو غمگین نہیں کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔ (سورۂ انبیائ: ۱۰۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4884
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ،قاله الالباني، أخرجه الترمذي:1663، وابن ماجه: 2799، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17182 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17314»