حدیث نمبر: 4882
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ قَالَ لَا بَلْ أَسْلِمْ ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَذَا عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کے ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام قبول کروں یا قتال کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تو پہلے اسلام قبول کر اور پھر قتال کر۔ پس وہ مسلمان ہو گیا اور پھر لڑا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اجر دیا گیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اسلام کی چند گھڑیاں یا اس سے بھی کم زندگی پائی ہے، لیکن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت کو اپنا مقدر بنا لیا، ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَائُ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2808، ومسلم: 1900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18592 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18793»