الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
أَبْوَابُ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَالشُّهَدَاءِ¤ فَضْلُ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ باب: شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب¤اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت
حدیث نمبر: 4874
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا قَالَ فِي الْجَنَّةِ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ وَقَالَ غَيْرُ عَمْرٍو وَتَخَلَّى مِنْ طَعَامِ الدُّنْيَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے احد والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ پس اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ڈال دیں اور قتال کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا اور دنیا کے کھانے سے الگ ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صحابۂ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات پر یقین تھا، اس یقین کی وجہ سے ان کے لیے موت کو قبول کرنا بہت آسان تھا۔