حدیث نمبر: 4871
عَنِ ابْنِ أَبِي عَمِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ يَقْبِضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا غَيْرُ الشَّهِيدِ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمِيرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِيَ الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو فوت کرے اور پھر وہ تمہاری طرف دوبارہ لوٹے اور اس کو دنیا اور اس کی تمام چیزیں ملیں، ما سوائے شہید کے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کر دیا جائے تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمام شہر و دیہات مجھے مل جائیں۔

وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی کی روایت میں أَھْلُ الْوَبَرِ وَالْمَدَر کے الفاظ ہیں، اول الذکر سے مراد بدو اور مؤخر الذکر سے مراد بستیوں اور شہروں والے ہیں، اس سے مراد دنیا اور اس کے خزانے ہیں، یہ سب فانی ہے اور شہادتکا ثواب باقی اور دائم رہے گا۔ فنا اور بقا کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 6/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18054»