حدیث نمبر: 4868
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِثَوْبَانَ كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ قَالَ ثَوْبَانُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا قَالَ لَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهَنُ قَالُوا وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ حُبُّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتُكُمُ الْقِتَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ثوبان! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب دوسری امتیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں گی، جیسے تم کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا ہماری کم تعداد کی وجہ سے ایسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اس وقت بہت زیادہ ہو گے، لیکن تمہارے دلوں میں وَھَن ڈال دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وَھَن کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا دنیا سے محبت کرنا اور قتال کو ناپسند کرنا۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی کمزوری کے جو دو اسباب بیان کیے، دورِ حاضر کا مسلم معاشرہ ان ہی دو چیزں کا اسیر بن کر رہ گیا ہے، دنیا سے اس قدر محبت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض اور واجبات تک کا خیال نہیں رکھا جاتا، رہا مسئلہ قتال کو ناپسند کرنے کا تو گزارش ہے کہ اکثر و بیشتر مسلمانوں کا رویہ یہی بن چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4868
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 4297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8698»