الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ باب: مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔