حدیث نمبر: 4863
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ الْغَزْوَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ وَلَا عَشِيرَةٌ فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ أَوِ الثَّلَاثَةَ فَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرِ جَمَلِهِ إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ قَالَ فَضَمَمْتُ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً إِلَيَّ وَمَا لِي إِلَّا عُقْبَةٌ كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غزوے کا ارادہ کیا اور فرمایا: اے مہاجروں اور انصاریوں کی جماعت! بیشک تمہارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں، جن کے پاس نہ کوئی مال ہے، نہ ان کا کوئی رشتہ دار ہے، اس لیے ہر آدمی اپنے ساتھ دو یا تین افراد کو ملا لے۔ پس ہم میں سے ہر آدمی کی ان دو یا تین افراد کی وجہ سے اپنے اونٹ پر سواری کرنے کی باری ہوتی تھی، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بھی اپنے ساتھ دو یا تین افراد ملا لیے اور میری بھی ان کی طرح سواری کرنے کی ایک باری ہوتی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … سواریوں کی قلت ہونے کی وجہ سے اونٹ کا مالک بھی دوسرے مجاہدین کی طرح صرف اپنی باری پر سواری کرتا تھا، یہ وہ پاکیزہ نفوس تھے، جو دوسروں کی ضروریات کو اپنی حاجات پر ترجیح دیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2534، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14924»