الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ باب: مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4861
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا تَصَدَّقَ بِنَاقَةٍ مَخْطُوطَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَتَأْتِيَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَبْعِمِائَةِ نَاقَةٍ مَخْطُوطَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے لگام زدہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: تو قیامت کے روز سات سو لگام زدہ اونٹنیوں کے ساتھ آئے گا۔
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر اونٹنی کو اس وقت لگام ڈالی جاتی ہے، جب وہ قوی ہو جائے اور اس قابل ہو جائے کہ اس پر سامان وغیرہ لادا جا سکے۔