الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ باب: مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4860
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ أُحُدٌ عِنْدِي ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ أُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو یہ بات مجھے خوش کرے گی کہ میں اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کر دوں اور اس حال میں مجھ پر تیسرا دن نہ آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار اور درہم ہو، ما سوائے اس چیز کے، جس کو میں قرضہ کی ادائیگی کے لیے روک لوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش تھی، لیکن عملی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جتنا مال و دولت آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بہت جلد تقسیم کر دیا، جہاد کے لیے بھی اور دوسرے مقاصد کے لیے بھی۔