الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ إِعَانَةِ الْمُجَاهِدِ وَتَجْهِيزِهِ وَخَلْفِهِ فِي أهْلِهِ وَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلْ باب: مجاہد کی اعانت، اس کو تیار کرنے، اس کے اہل و عیال کا جانشیں بننے اور¤اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4857
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا حَتَّى يَسْتَقِلَّ بِجَهَازِهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ وَمَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُذْكَرُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر سایہ کرے گا، جس نے مجاہد کو تیار کیا، یہاں تک کہ وہ مستقل بالذات اور خود مختار ہو گیا، اس کے لیے اس کے اجر جتنا اجر ہو گا اور جس نے ایسی مسجد بنائی، جس میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔