الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
إخلاص النيَّةِ فِي الْجِهَادِ وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْأَجْرَةِ عَلَيْهِ باب: جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
حدیث نمبر: 4852
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْغَازِي أَجْرُهُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کے لیے اس کا اجر ہے اور اس کو تیار کرنے والے کو اپنا اجر بھی ملے گا اور غازی کا اجر بھی ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … مجاہد کو تیار کرنے والے کو دو اجر ملتے ہیں، تیار کرنے کا اجر اور جہاد کا سبب بننے کی وجہ سے مجاہد کا اجر۔ لیکن عملی طور پر جہاد کرنے والے کا اجر بے مثال ہے۔