حدیث نمبر: 4850
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْأَمْصَارُ وَسَيَضْرِبُونَ عَلَيْكُمْ بُعُوثًا يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ يَقُولُ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا وَكَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شہروں کو تم پر فتح کیا جائے گا، پھر (جہاد کے لیے امراء کو) کئی لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی، لیکن ایک آدمی اس لشکر میں جانے سے انکار کر دے گا، پھر وہ اپنے قوم سے نکل کر اپنے نفس کو دوسرے قبیلوں پر پیش کرے گا اور کہے گا: میں فلاں فلاں لشکر کے لیے کس کو کفایت کروں، خبردار! یہ شخص اپنے خون کا آخری قطرہ بہنے تک مزدور ہی رہے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب اسلام ہر طرف پھیلے گا اور خلیفہ کو مختلف جہات کی طرف لشکر بھیجنے کی ضرورت پڑے گی تو یہ آدمی نکلنے پر راضی نہیں ہو گا اور حیلے بہانے کر کے اپنی قوم سے نکل کر مختلف قبائل پر اپنے آپ کو پیش کرے گا، تاکہ وہ اس کو مناسب اجرت دیں، ایسے آدمی کا قتال دنیا کی خاطر ہو گا، نہ کہ سربلندیٔ دین کے لیے، ایسے آدمی کی حیثیت دنیوی مزدور کی ہے، نہ کہ غازی یا شہید کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4850
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن اخي ابي ايوب، أخرجه أبوداود: 2525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23896»