الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
إخلاص النيَّةِ فِي الْجِهَادِ وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْأَجْرَةِ عَلَيْهِ باب: جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَا فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي سَرِيَّةٍ وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ ثَقْلِي فَقُلْتُ لَهُ ارْحَلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ قُلْتُ وَلِمَ قَالَ حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قُلْتُ الْآنَ حَيْثُ وَدَّعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ارْحَلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَيْسَ لَهُ مِنْ غَزَاتِهِ هَذِهِ وَمِنْ دُنْيَاهُ وَمِنْ آخِرَتِهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ۔ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مختلف سریوں میں بھیجتے رہتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، ایک آدمی میرا سامان مرتّب کرنے اور اس کو اونٹ پر لادنے میں میری مدد کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: تو بھی میرے ساتھ چل، بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا ہے، اس نے کہا: میں تو تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: وہ کیوں؟ اس نے کہا: یہاں تک کہ تو میرے لیے تین دیناروں کا تعین نہیں کر دے گا، میں نے کہا: میں نے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو الوداع کہا تھا، اب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تو نہیں لوٹ سکتا، بہرحال تو ہمارے ساتھ چل اور تجھے تین دینار مل جائیں گے، پس جب میں اپنے غزوے سے واپس لوٹا تو میں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے اس غزوے میں سے اور اس کی دنیا و آخرت میں سے نہیں ہے، مگر یہی تین دینار۔