حدیث نمبر: 4845
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ وَقَالُوا لِلرَّجُلِ عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا سوال سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی نے تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سب سے مشکل عمل اخلاص اور جہت ِ نیت کو درست رکھنا ہے، بالخصوص دورِ حاضر میں، کیونکہ اس دور میں جلد بازی، ظاہر پرستی، خوشامد، طلب ِ دنیا اور حرص جیسی قبیح خصلتیں پائی جاتی ہیں اور یہ ساری چیزیں اخلاص کے منافی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 2516 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7887»