الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
إخلاص النيَّةِ فِي الْجِهَادِ وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْأَجْرَةِ عَلَيْهِ باب: جہاد میں نیت کو خالص کرنا اور اس میں اجرت لینے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ وَقَالُوا لِلرَّجُلِ عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْهَمْ فَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضَ الدُّنْيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ ثُمَّ عَادَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَجْرَ لَهُ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ بیچ میں دنیا کا ساز و سامان بھی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ جب لوگوں پر یہ بات گراں گزری تو انھوں نے اس آدمی سے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوبارہ سوال کر، شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرا سوال سمجھ نہیں پائے، اس نے دوبارہ سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کہہ رہا ہوں کہ ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے، لیکن وہ دنیوی ساز و سامان بھی تلاش کرنا چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ اس آدمی نے تیسری بار سوال دوہرا دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا: (میں کہہ تو رہا ہوں کہ) اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔