حدیث نمبر: 4840
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ فَمَا أَضْحَكَكَ قَالَ أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے گھر موجود تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر رکھا اور سو گئے اور نیند میں مسکرائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو اس ام المؤمنین نے کہا: آپ اپنی نیند میں مسکرائے ہیں، کس چیز نے آپ کو ہنسایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر تعجب ہو رہا ہے، جو دشمن کو دہشت زدہ کرنے کے لیے اس سمندر کا سفر کریں گے، وہ راہِ خدا میں جہاد کر رہے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں بڑی بھلائی کا ذکر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) پر حملہ بھی بحری جہاد سے متعلقہ ہے، اس لیے ہم اس سے متعلقہ حدیث ِ مبارکہ بیان کر کے اس کی وضاحت کر دیتے ہیں:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4840
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن ثابت العبدي ليس بالقوي عندھم، أخرجه ابويعلي: 2461 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2722»