حدیث نمبر: 4837
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُمِّ حَرَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَائِلًا فِي بَيْتِي إِذِ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ مَا يُضْحِكُكَ فَقَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ أَيْضًا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُضْحِكُكَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَغَزَتْ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ زَوْجَهَا فَوَقَصَتْهَا بَغْلَةٌ لَهَا شَهْبَاءُ فَوَقَعَتْ فَمَاتَتْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں قیلولہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں، وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس کو ان میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے امت کے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے، وہ اس سمندر پر سوار ہو رہے ہیں اور ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ میں نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اوّلین لوگوں میں سے ہو۔ پھر سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سیدنا عبادہ بن صامت کے ساتھ اس غزوے کے لیے نکلیں، سیاہی ملی ہوئی سفید رنگ کی خچر نے ان کو اس طرح گرایا کہ ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گئیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4837
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2799، 2800، ومسلم: 1912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27572»