حدیث نمبر: 4836
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ نُفَيْلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي سَئِمْتُ الْخَيْلَ وَأَلْقَيْتُ السِّلَاحَ وَوَضَعَتِ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا قُلْتُ لَا قِتَالَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْآنَ جَاءَ الْقِتَالُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ يَرْفَعُ اللَّهُ قُلُوبَ أَقْوَامٍ فَيُقَاتِلُونَهُمْ وَيَرْزُقُهُمُ اللَّهُ مِنْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ أَلَا إِنَّ عُقْرَ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُ وَالْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلمہ بن نفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: میں گھوڑے سے اکتا گیا ہوں، اسلحہ پھینک دیا ہے اور جنگ نے اپنے بوجھ رکھ دیئے ہیں اور جہاد ختم ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تو قتال شروع ہوا ہے، میری امت کا ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دل ٹیڑھے کرتا رہے گا ، پس یہ ان سے جہاد کرتے رہیں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ اُن سے اِن کو رزق دیتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آ جائے گا اور وہ گروہ اسی حالت میں ہو گا، خبردار! ایمان والوں کا اصل مرکز شام ہو گا اور قیامت کے دن تک گھوڑے کی پیشانی میں خیر رکھ دی گئی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ سب سے زیادہ خیر و برکت والا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس جہاد کی بنیاد رکھی اس کی فتوحات اور فوائد کی بڑی مثالیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آئیں۔ اصل مرکز شام دیگر روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرب ِ قیامت شام کا علاقہ مومنین کے لیے فتح کا مقام ہو گا، ایک حدیث درج ذیل ہے، اس حدیث میں گویا اشارہ ہے کہ اہل اسلام کے لیے فتنوں کے دور میں شام امن اور سلامتی کی جگہ ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/ 214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17090»