الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
حَدَّثَنَا سَهْلٌ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْغَزْوِ وَأَنَّ رَجُلًا تَخَلَّفَ وَقَالَ لِأَهْلِهِ أَتَخَلَّفُ حَتَّى أُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ثُمَّ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ وَأُوَدِّعَهُ فَيَدْعُوَ لِي بِدَعْوَةٍ تَكُونُ شَافِعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ الرَّجُلُ مُسَلِّمًا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرِي بِكَمْ سَبَقَكَ أَصْحَابُكَ قَالَ نَعَمْ سَبَقُونِي بِغَدْوَتِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ سَبَقُوكَ بِأَبْعَدِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ فِي الْفَضِيلَةِ۔ سہل اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو ایک غزوے کا حکم دیا، ان میں سے ایک آدمی پیچھے رہ گیا اور اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرا پیچھے رہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کر لوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ کر الوداع کر دوں گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے حق میں ایسی دعا کر دیں گے، جو قیامت کے دن میرے لیے باعث ِ سفارش ہو گی، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ادا کی اور وہ آدمی سلام کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ لوگ تجھ سے کتنی سبقت لے جا چکے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں، وہ صبح کے وقت نکلے ہیں (اور میں اب ظہر کے بعدنکل جاؤں گا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ فضیلت و عظمت میں تجھ سے اتنی سبقت لے جا چکے ہیں، جو دونوں مشرقوں اوردونوں مغربوں کی مسافت سے بھی زیادہ ہے۔