الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ فِي جَوْفِ رَجُلٍ غُبَارًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانَ جَهَنَّمَ وَمَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ سَائِرَ جَسَدِهِ عَلَى النَّارِ وَمَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِلِ وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَتَمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلُ لَوْنِ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ يَعْرِفُهُ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ يَقُولُونَ فُلَانٌ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی آدمی کے پیٹ میں راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں کرے گا، جس کے پاؤں اللہ کے راستے میں خاک آلود ہو گئے، اللہ تعالیٰ اس کے باقی جسم پر بھی آگ کو حرام کر دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک ہزار سال کی مسافت آگ سے دور کر دے گا، جبکہ اس عرصے میں مسافت طے کرنے والا جلدی چلنے والا سوار ہو، جس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخم لگا، اس پر شہداء کی مہر لگا دی جائے گی، وہ زخم اس کے لیے قیامت کے دن نور ہو گا، اس کا رنگ زعفران کی طرح کا اور خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی، اگلے پچھلے اس کو پہچان لیں گے، لوگ کہیں گے: فلاں آدمی پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔