حدیث نمبر: 4825
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ قَالَ فَأَعْجَبَتْهُ يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ فَقَالَ لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیں کرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔

وضاحت:
فوائد: … حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دل لگانے کی جگہ نہیں ہے، یہ تو آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، دیکھو صحابۂ کرام کے پاکیزہ گروہ کو، انھوں نے فقرو فاقہ کو ترجیح دی، اپنوں پرائیوں کا غضب مول لیا، لیکن اپنی مختصر زندگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سچی وفا کی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشتوں کے وارث بن گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1650 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:9762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9761»