الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ قَالَ فَأَعْجَبَتْهُ يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ فَقَالَ لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ ثُمَّ قَالَ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحابِ رسول میں سے ایک آدمی ایک گھاٹی،جس میں میٹھے پانی کا چشمہ تھا، کے پاس سے گزرا، اس کی خوشبو اسے بڑی اچھی لگی۔ وہ (دل میں) کہنے لگا: اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں فروکش ہو جاؤں تو … لیکن میں پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشورہ کروں گا۔ جب اس نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ایسے نہیں کرنا، کیونکہ) اللہ کے راستے میں تمھارا ٹھہرنا اپنے اہل میں ساٹھ سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں بخش دیں اور تمھیں جنت میں داخل کر دیں! اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جس نے اللہ کے راستے میں اونٹنی کے دو بار دوہنے کی درمیانی مدت کے برابر جہاد کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔