الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت
حدیث نمبر: 4819
عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ مُرَّةَ يَا كَعْبَ بْنَ مُرَّةَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْمُوا أَهْلَ صُنْعٍ مَنْ بَلَغَ الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ رَفَعَهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً قَالَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي النَّحَّامِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الدَّرَجَةُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ بِعَتَبَةِ أُمِّكَ وَلَكِنَّهَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ مِائَةُ عَامٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے کعب بن مرہ! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرو، لیکن احتیاط کرنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہنر مندو! تیر پھینکو، جس کا تیر دشمن تک پہنچ گیا، اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ بلند کر دے گا۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی نحام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ درجہ تیری اماں جان کی دہلیز نہیں ہے، بلکہ دو درجوں کے درمیان سو برسوں کی مسافت جتنا فاصلہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ کسی کے منہ پر اس کی ماں کا ذکر کرنا عرفِ عام میںمعیوب سمجھا جاتا ہے، مگر شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، خصوصاً جب کہ متعلقہ شخص اسے محسوس نہ کرے۔