حدیث نمبر: 4812
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَتَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَيْهِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا يُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ يَعْنِي التُّرْسَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّاسِ نَادَى مَنْ يَحْرُسُنَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَدْعُو لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَا فَقَالَ مَنْ أَنْتَ فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالدُّعَاءِ فَأَكْثَرَ مِنْهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَنَا رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ فَقُلْتُ أَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ فَدَعَا بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ أَوْ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُهُ يَعْنِي غَيْرَ زَيْدٍ أَبُو عَلِيِّ بْنِ الْجَنَبِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، ہم ایک رات ایک ٹیلے پر آئے اور وہاں رات گزاری، لیکن وہاں اتنی سخت سردی تھی کہ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا وہ زمین میں گڑھا کھودتے اور اس میں داخل ہو کر اوپر ڈھال ڈال دیتے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورتحال دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی: اس رات کو ہمارا پہرہ کون دے گا، اس کے عوض میں اس کے لیے ایسی دعائیں کروں گا کہ ان میں فضیلت ہو گی؟ ایک انصاری نے کہا: جی میں پہرہ دوں گا اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس وہ قریب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ انصاری نے اپنا نام بتایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعائیں کرنا شروع کیں اور بہت زیادہ کیں، جب میں ابو ریحانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ دعائیں سنیں تو میں نے کہا: میں پہرہ دینے کے لیے دوسرا آدمی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا قریب ہو جا۔ پس میں قریب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابو ریحانہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی دعائیں تو دیں مگر وہ انصاری والی دعاؤں سے کم تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آنکھ پر آگ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو اللہ کے ڈر کی وجہ سے روتی ہے اور اس آنکھ پر بھی آگ حرام ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاگتی ہے۔ راوی کہتا ہے: ایک اور آنکھ پر بھی آگ حرام تھی، لیکن محمد بن سمیر نے وہ حصہ نہیں سنا۔

وضاحت:
فوائد: … صرف لڑنا ہی جہاد نہیں ہے، بلکہ لڑائی کی تربیت حاصل کرنا، لڑائی کی تیاری کرنا اور دشمن سے مقابلے کے لیے تیار رہنا بھی جہاد ہے، فوج سرحدوں پر بیٹھی رہے اور اس کے ڈر سے دشمن دبکا رہے، یہ بھی جہاد ہے، اس پر بھی اجر عظیم حاصل ہو گا، لڑائی تو آخری چارۂ کار ہے، جو بامر مجبوری اختیار کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4812
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 350، والطبراني في الاوسط : 8736، والحاكم: 2/ 63، وأخرجه النسائي: 6/ 15 مختصرا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17345»