حدیث نمبر: 4804
عَنِ ابْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ وَهُوَ مُرَابِطٌ عَلَى السَّاحِلِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَابَطَ يَوْمًا أَوْ لَيْلَةً كَانَ لَهُ كَصِيَامِ شَهْرٍ لِلْقَاعِدِ وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى اللَّهُ لَهُ أَجْرَهُ وَالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ أَجْرَ صَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَنَفَقَتِهِ وَوُقِيَ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ وَأَمِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سلیمان خیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا شرحبیل بن سمط رضی اللہ عنہ کو بیان کیا، جبکہ وہ ساحل کی سرحدی چوکی پر مقیم تھے، انھو ں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن یا ایک رات کے لیے سرحد پر قیام کیا، اس کے لیے پیچھے بیٹھنے والے کے ایک ماہ کے روزوں کے برابر اجر ہو گا اور جو اسی رباط کے دوران فوت ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے عمل کا اجر جاری کر دے گا، یعنی اس کی نماز، روزے اور مال خرچ کرنے کا اجر، اس کو قبر کے فتنے سے بچایا جائے گا اور وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہے گا۔

وضاحت:
فوائد: … بڑی گھبراہٹ سے مراد صورِ اسرافیل اور قیامِ قیامت ہے، دیکھیں حدیث نمبر ۴۸۸۴۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4804
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1665، وأخرجه بنحوه مسلم: 1913 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:23727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24128»