الفتح الربانی
كتاب الجهاد— جہاد کے مسائل
فَضْلُ الْجِهَادِ وَالرِّبَاطِ وَالْمُجَاهِدِينَ ¤ فَضْلُ الْجِهَادِ وَالتَّرْغِيْبِ فِيهِ باب: جہاد، رباط اور مجاہدین کی فضیلت¤جہاد کی فضیلت اور اس کی ترغیب
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ لَا تُطِيقُونَهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ قَالُوا أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِيقُهُ قَالَ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ایسے عمل کے بارے میں بتلا دیں جو جہاد کی سبیل اللہ کے برابر ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا، لوگوں نے کہا: آپ بتلا تو دیں، شاید ہم میں اس کی طاقت ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجاہد کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو لگاتار روزہ رکھنے والا ہو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ مسلسل قیام کرنے والا ہو، نہ وہ روزے سے اکتاتا ہو اور نہ نماز سے، یہاں تک کہ مجاہد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔