حدیث نمبر: 4784
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ ثُمَّ أُحْيَا ثُمَّ أُقْتَلَ وَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا تَخَلَّفْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ أَوْ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا بَعْدِي أَوْ يَقْعُدُوا بَعْدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں پس شہید کیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، پھر زندہ کیا جائے اور پھر شہید کر دیا جائے، اور اگر میں مؤمنوں پر گراں نہ سمجھتا تو میں کسی ایسے لشکر سے پیچھے نہ رہتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ان کو سواریاں دوں اور ان کے پاس بھی اتنی وسعت نہیں کہ وہ خود تیاری کر کے میرے ساتھ چلیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی ان کے نفسوں کو گوارا نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ صرف خواہش ہے، مقصد شہادت کی فضیلت بیان کرنا ہے، ورنہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے،کبھی کوئی شہید زندہ نہیں ہوا، شہدائے احد نے اللہ تعالیٰ سے زندگی کی درخواست کی تھی مگر منظور نہیں ہوئی، جیسا کہ صحیح مسلم (۱۸۸۷) میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا میدانِ جنگ میں جانا ضروری نہیں ہے، بلکہ حالات، وسائل اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجهاد / حدیث: 4784
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7226، ومسلم: 1876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10530»