الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْأَسْمَاءِ وَمَا يُكْرَهُ مِنْهَا باب: حرام اور مکروہ نام
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرْبَعٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ أَثَمَّ هُوَ أَوْ أَثَمَّ فُلَانٌ قَالُوا لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ لَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چار کلمات اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں: لا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، اَللّٰہُ أَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، تو جس کلمے سے مرضی شروع کر دے، اس سے کوئی نقص نہیں ہو گا، تو اپنے بچے کا نام افلح، نجیح، یسار اور رباح نہ رکھ، کیونکہ جب تو پوچھے گا کہ فلاں ہے، فلاں یہاں ہے تو اس کے موجود نہ ہونے کی صورت میں لوگ کہیں گے: نہیں۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ چار کلمات ہی ہیں، اس سے زیادہ مجھ سے بیان نہ کرنا۔