حدیث نمبر: 4779
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ زَجَرْتُ أَنْ يُسَمَّى بَرَكَةُ وَيَسَارٌ وَنَافِعٌ قَالَ جَابِرٌ لَا أَدْرِي ذَكَرَ رَافِعًا أَمْ لَا إِنَّهُ يُقَالُ لَهُ هَاهُنَا بَرَكَةُ فَيُقَالُ لَا وَيُقَالُ هَاهُنَا يَسَارٌ فَيُقَالُ لَا قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَزْجُرَ عَنْهُ ثُمَّ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو ان ناموں سے منع کر دوں گا، برکت، یسار اور نافع۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس چیز کا مجھے علم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رافع نام کا ذکر کیا تھا یا نہیں، ان ناموں سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ برکت ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، اسی طرح جب پوچھا جاتا ہے کہ یسار ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ناموں سے منع کیے بغیر فوت ہو گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بعد میں اس ارادے کو ترک کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان ناموں سے واقعی منع کر دیا تھا، جیسا کہ اگلی حدیث سے پتہ چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4779
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14661»