الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُنْيَةِ وَاللَّقَبِ وَمَنْ كَنَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4776
عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ ابْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَبٌ أَوْ لَقَبَانِ قَالَ فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بِلَقَبِهِ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا قَالَ فَنَزَلَتْ {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ} [الحجرات: 11]ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو جبیرہ بن ضحاک انصاری اپنے چچوں سے بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے ایک دو دو لقب تھے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی آدمی کو اس کے لقب کے ساتھ پکارتے تو ہم کہتے: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی اس لقب کو ناپسند کرتا ہے، پھر اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {وَلا تَنَابَزُوا بِالألْقَابِ} … اور کسی کو برے لقب نہ دو (سورۂ حجرات: ۱۱)
وضاحت:
فوائد: … استہزا اور تحقیر کے لیے لوگوں کے ایسے نام رکھ لینا جو انہیں ناپسند ہوں یا اچھے بھلے ناموں کو بگاڑ کر بولنا، یہ برے القاب کی صورتیں ہیں، اس آیت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، ادنی واعلی کی تمیز کیے بغیر وقار اور عزت و احترام ہر آدمی کا حق ہے اور وہ اس کو ملنا چاہیے، اگرچہ اشراف طبقے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔