الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُنْيَةِ وَاللَّقَبِ وَمَنْ كَنَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4775
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَتَكَنِّي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیتیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام عبد اللہ کی کنیت رکھ لو، ایک روایت میں ہے: تم اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام پر کنیت رکھ لو۔ پس سیدہ کو وفات تک ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، جبکہ ان کی اولاد نہیں ہوئی تھی۔