حدیث نمبر: 4774
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَيَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَتَقُولُ إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُهَيْبٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حمزہ بن صہیب سے مروی ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی تھی اور وہ کہتے تھے کہ وہ عربوں میں سے ہیں اور وہ بڑی مقدار میں کھانا کھلاتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب! تجھے کیا ہو گیا ہے، تو نے ابو یحیی کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ تیری اولاد نہیں ہے اور تو کہتا ہے کہ تو عربوں میں سے ہے اور تو بڑی مقدار میں کھانا کھلاتا ہے، یہ تو مال میں اسراف ہے؟ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کنیت رکھی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … مفصل حدیث مناقب ِ صحابہ میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4774
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، أخرجه مختصرا بقصة التكني ابن ماجه: 3738 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24422»