الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَنْ سَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ لِمَصْلَحَةٍ باب: وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
حدیث نمبر: 4767
عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ عَنْ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْمُهُ زَحْمٌ فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ لیلی رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سے بیان کرتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ ان کا اصل نام زحم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا۔
وضاحت:
فوائد: … زَحْم کا معنی ازدحام اور بھیڑ لگائے ہوئے لوگ ہے، جبکہ بشیر کا معنی خوشخبری سنانے والے کے ہیں۔