الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَنْ سَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ لِمَصْلَحَةٍ باب: وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِّيرُ وَمُشَبِّرٌ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام تو حسن ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام حسین ہے۔ جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ محسِّن ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان بچوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بچوں کے ناموں پر رکھے ہیں، ان کے نام یہ تھے: شَبَّر، شَبِّیْر اور مُشَبِّر۔