الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَظَرَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عَبْدِ الْحَمِيدِ أَوِ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ يَا مُحَمَّدُ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ وَجَعَلَ يَسُبُّهُ قَالَ فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا ابْنَ زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي قَالَ أَلَا أَرَى مُحَمَّدًا يُسَبُّ بِكَ لَا وَاللَّهِ لَا تُدْعَى مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَيًّا فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ لِيُغَيِّرَ أَهْلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعَةٌ وَسَيِّدُهُمْ وَأَكْبَرُهُمْ مُحَمَّدٌ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ إِنْ سَمَّانِي مُحَمَّدًا يَعْنِي إِلَّا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا لَا سَبِيلَ لِي إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبد الحمید یا ابن عبد الحمید کی طرف دیکھا، اس کا نام محمد تھا، ایک آدمی اس کو گالی دے رہا تھا اور یوں کہہ رہا تھا: او محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ یوں کرے اور اس طرح کرے اور اس طرح کرے، امیر المؤمنین نے اس وقت کہا: اے ابن زید! ذرا میرے قریب ہو جاؤ، کیا میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، نہیں، اللہ کی قسم ہے جب تک تم زندہ رہو گے ، تم کو محمد نہیں کہا جائے گا ، پھر انھوں نے نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا ، پھر امیر المومنین نے بنو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ان میں سے جن کے نام محمد ہیں وہ اس نام کو تبدیل کر دیں ، ایسے کل سات افراد تھے ، بلکہ اس کے سردار اور بڑے کا نام بھی محمد تھا ، ان میں سے سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ میرا نام تبدیل نہ کریں کیونکہ میرا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے ، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : چلے جاؤ ، جس آدمی کا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ، اس کے بارے میں مجھے کوئی اختیار نہیں ہے ۔