الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4755
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي وَمَنِ اكْتَنَى بِكُنْيَتِي فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے نام پر نام رکھا، وہ میری کنیت نہ رکھے اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے۔
وضاحت:
فوائد: … فوائد: … بہتر یہ ہے کہ سابقہ احادیث کے عام حکم کا لحاظ کر کے ان احادیث کے جواز پر عمل نہ کیا جائے، ممکن ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی اجازت دی ہو، لیکن پھر حدیث نمبر (۴۷۵۱) کے واقعہ کے بعد عموم کے ساتھ ابو القاسم کنیت سے منع کر دیا ہو، حدیث نمبر (۴۷۵۸) سے بھی اس قسم کا اشارہ ملتا ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی وفات کے بعد اس کنیت کی اجازت دے رہے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔