الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4753
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَأَسْمَاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نُكَنِّيكَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی کا بچہ پیدا ہوا، اس نے اس کا نام قاسم رکھا، ہم نے اس سے کہا: ہم تیری کنیت ابو القاسم نہیں رکھیں گے اور اس طرح تیری آنکھ کو ٹھنڈا نہیں کریں گے، پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹے کا نام عبد الرحمن رکھ لو۔