الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ أَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ۔ سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ ، ان کو صحبت کا شرف حاصل تھا، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے ناموں کے ساتھ نام رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں، سب سے زیادہ برے نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو باندھ کر رکھو اور ان کی پیشانیوں اور ان کے پچھلے حصوں یا ان کے سرینوں کو چھوا کرو، ان کو قلادے ڈالا کرو، البتہ تانت کا قلادہ نہ ڈالا کرو، اور تم سیاہ و سرخ رنگ کے گھوڑے کا ، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سفید سرخی مائل گھوڑے کا، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سیاہ گھوڑے کا اہتمام کرو، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔