حدیث نمبر: 4738
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مذکورہ بالا روایت کی طرح ہی ہے ، البتہ اس میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں ، جبکہ ہمام کی روایت میں وَیُدَمّٰی کے الفاظ ہیں ، اور قتادہ راوی اس خون کی یہ کیفیت بیا کرتے تھے : جب آدمی عقیقہ کے جانور کو ذبح کرے گا تو روئی کا ٹکڑا لے کر ذبیحہ کی رگوں کے سامنے رکھا جائے گا ، پھر اس کو بچے کی چوٹی پر رکھا جائے گا ، یہاں تک کے خون بہے گا اور اس کو دھو کر سر کو مونڈ دیا جائے گا ۔‘‘

وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ ان احادیث میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں یا وَیُدَمّٰی کے، اول الذکر کا معنی نام رکھنا ہے اور مؤخر الذکر کا معنی سر کو خون آلود کرنا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4738
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20457»