حدیث نمبر: 4735
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ لَا تَعُقِّي عَنْهُ وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تو ان کی ماں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف دو دنبوں کا عقیقہ کرنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طرف عقیقہ نہ کرو، بلکہ اس کے سر کو مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا اللہ کے راستے میں صدقہ کرو۔ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو سیدہ نے اسی طرح کیا۔

وضاحت:
فوائد: … درج ذیل روایت صحیح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4735
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول شَعْرِهِ فِضَّةً۔)) قَالَ فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ۔ اے فاطمه ! اس كے سر كو مونڈو اور اس كے بالوں كے برابر چاندي كا صدقه كرو۔ پس جب انھوں نے وزن كيا تو بالوں كا وزن درهم يا درهم كا كچھ حصه تھا۔ (ترمذي: 1519) يه سيدنا حسن رضي الله عنه كي ولادت كا واقعه هے۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27738»