الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الْعَقِيقَةِ وَتَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ وَحَلْقِ رَأْسِهِ وَالتَّصَدُّقِ بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ باب: عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ قَالَ لَا وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْفَاضِ وَكَانَ الْأَوْفَاضُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الصُّفَّةِ قَالَ أَبُو النَّضَرِ مِنَ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ يَعْنِي أَهْلَ الصُّفَّةِ أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ قَالَتْ فَلَمَّا وَلَدْتُ حُسَيْنًا فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو انھوں نے کہا: کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے خون بہا کر اس کا عقیقہ نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا سر مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی مسکینوں اور کمزوروں پر صدقہ کر دو۔ یہ کمزور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض محتاج افراد تھے، جو مسجد یا صفہ میں رہتے تھے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اس چاندی کو کمزوروں یعنی اہل صفہ اور مسکینوں پر خرچ کرو۔ سیدہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اسی طرح کیا۔