حدیث نمبر: 4731
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعْتُ مِنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّتِي تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ وَذَهَبْتُ أَطْلُبُ مِنَ اللَّحْمِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا قَالَتْ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جبکہ میں گوشت لینے کے لیے گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری، اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: پرندے کو اس کی جگہ پر بیٹھنے دیا کرو۔

وضاحت:
فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ پرندوں کے ذریعے بری یا اچھی فال نہ نکالا کرو۔ اس کی صورت یہ تھی کہ جب کوئی آدمی کسی کام کو سرانجام دینے کا ارادہ کرتے تو وہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا، اگر وہ دائیں طرف اڑتا تو اس کو وہ اپنی کامیابی کی علامت سمجھ کر کام شروع کر دیتا، لیکن اگر وہ اس کی بائیں جانب اڑ جاتا تو اس کو ناکامی کی علامت سمجھ کر کام کو ترک کر دیتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4731
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله اقروا الطير علي مكناتھا ، أخرجه أبوداود: 2835،و ابن ماجه: 3162،والنسائي: 7/ 164(27139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27680»