الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي الْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيٍ باب: فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 4727
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالْفَرَعُ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ وَالْعَتِيرَةُ ذَبِيحَةُ رَجَبٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی فرع ہے اور نہ کوئی عتیرہ۔ ابن شہاب نے کہا: فرع سے مراد پیدا ہونے والا وہ پہلا جانور ہے جو جاہلیت والے لوگ ذبح کرتے تھے اور رجب کے ذبیحہ کو عتیرہ کہتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … فرع اور عتیرہ کی جائز صورتیں بھی ہیں اور ناجائز بھی، تفصیل درج ذیل ہے: