الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي الْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيٍ باب: فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 4722
عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلَى أَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ هِيَ الَّتِي يُسَمِّيهَا النَّاسُ الرَّجَبِيَّةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک ہر سال ہر گھر والوں پر قربانی اور عتیرہ ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عتیرہ ہوتا کیا ہے؟ یہی جس کو لوگ رجبیہ کہتے ہیں۔