حدیث نمبر: 4719
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا أَوْ شُغْزُوبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئُ إِنَاءَكَ وَتُوَلِّهِ نَاقَتَكَ وَقَالَ وَسُئِلَ عَنِ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ الْعَتِيرَةُ حَقٌّ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ كَانُوا يَذْبَحُونَ فِي رَجَبٍ شَاةً فَيَطْبُخُونَ وَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ لفظ ناپسند کیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب کسی کا بچہ پیدا ہو تو (اس کی طرف سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے بچے کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو وہ کرے، تفصیل یہ ہے کہ بچے کی طرف سے بکری یا بھیڑ کی نسل کے دو برابر برابر جانور ہوں اور بچی کی طرف سے ایک۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرع کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرع حق ہے، لیکن اگر تو اس جانور کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کا گوشت سخت ہو جائے، یعنی ابن مخاض بن جائے یا ابن لبون بن جائے، پھر تو اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لیے دے یا بیواؤں کو دے دے تو یہ عمل اس سے بہتر ہو گا کہ تو اس وقت اس کو ذبح کر دے، جب اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہو، اس طرح تو اپنا برتن بھی انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو بھی تکلیف پہنچائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عتیرہ حق ہے۔ کسی آدمی نے عمرو بن شعیب سے سوال کیا کہ عتیرہ کیا ہوتا ہے، انھوں نے کہا: لوگ رجب میں ایک بکری ذبح کر کے اس کو پکاتے تھے، پھر خود بھی کھاتے اور لوگوں کو بھی کھلاتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ کی بجائے نُسُک کا لفظ پسند فرمایا، جس کے معانی قربانی کرنے کے ہیں۔ اس حدیث میں فرع اور عتیرہ کی جائز صورتوں کا بیان ہے، ان کی وضاحت اگلے باب میں آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4719
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2842، والنسائي: 7/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6713»