الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ بِوَصِيَّةٍ مِنْهُ وَمَنْ أَذِنَ فِي انْتِهَابِ أُضْحِيَةٍ - باب: میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ النَّفْرِ وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ قَالُوا قَالَ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ۔ سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم قربانی والا دن ہے، اس کے بعد روانگی کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پانچ چھ اونٹ قریب کیے گئے، وہ اونٹ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے شروع کریں گے، پس جب ان کے پہلو گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی بات کی، میں اس کو نہ سمجھ سکا، پس میں نے اپنے قریب والے ایک آدمی سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، گوشت کا ٹ لے۔