حدیث نمبر: 4717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ النَّفْرِ وَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ بَدَنَاتٍ أَوْ سِتٌّ يَنْحَرُهُنَّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ أَيَّتُهُنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ بَعْضَ مَنْ يَلِينِي مَا قَالَ قَالُوا قَالَ مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے عظیم قربانی والا دن ہے، اس کے بعد روانگی کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پانچ چھ اونٹ قریب کیے گئے، وہ اونٹ خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہونے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے شروع کریں گے، پس جب ان کے پہلو گر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی بات کی، میں اس کو نہ سمجھ سکا، پس میں نے اپنے قریب والے ایک آدمی سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے، گوشت کا ٹ لے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس اجازت سے مراد جھپٹنا اور اچک لینانہیں ہے، ایسا کرنے سے تو چیز کا ضیاع بھی ہوتا ہے، کمزور افراد محروم رہ جاتے ہیں اور بسا اوقات بعض افراد زخمی بھی ہو جاتے ہیں، جبکہ یہ اسلامی تہذیب کا تقاضا بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4717
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، (4717) أخرجه أبوداود: 1765، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19285»