الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّضْحِيَةِ عَنِ الْمَيِّتِ بِوَصِيَّةٍ مِنْهُ وَمَنْ أَذِنَ فِي انْتِهَابِ أُضْحِيَةٍ - باب: میت کی وصیت کی بناء پر اس کی طرف سے قربانی کرنا اور قربانی کا گوشت اچکنے کی اجازت دینے والوں کا اور اچک لینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 4715
عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ مَا هَذَا فَقَالَ أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حنش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انھوں نے دو دنبوں کی قربانی کی، میں نے ان سے کہا: یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کروں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن کسی بھی نیک کام کی وصیت کی جا سکتی ہے۔