الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
باب: تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سُلَيْمَانَ وَكِلَاهُمَا كَانَ ثِقَةً قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَتْ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا قَدِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَفَرٍ فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِلَحْمٍ مِنْ ضَحَايَاهَا فَقَالَ أَوَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا فَدَخَلَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ كُلْهَا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ إِلَى ذِي الْحِجَّةِ۔ ام سلیمان کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور قربانیوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع تو کیا تھا، لیکن بعد میں رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک سفر سے واپس آئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کو اپنی قربانی کا گوشت پیش کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ نے ان سے روکا تھا پھر ان کے متعلق رخصت دے دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ایک ذوالحجہ سے دوسرے ذوالحجہ تک کھا سکتے ہو۔