الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
باب: تین ایام سے زائد تک قربانی کا گوشت کھانے کی ممانعت کے منسوخ ہو جانے کا بیان
عَنْ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ سَأَلْنَاهَا أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُؤْكَلَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَتْ مَا قَالَهُ إِلَّا فِي عَامٍ جَاعَ النَّاسُ فِيهِ فَأَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ الْغَنِيُّ الْفَقِيرَ وَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهَا بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَمَا اضْطَرَّكُمْ إِلَى ذَلِكَ قَالَ فَضَحِكَتْ وَقَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ مَأْدُومٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (دوسری سند) عباس بن ربیعہ کہتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین سے زائد دنوں تک قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم صرف ان دنوں میں دیا تھا، جن میں لوگ بھوک میں مبتلا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ غنی لوگ فقیروں کو کھلائیں، ہم خود پنڈلی کا پتلا حصہ محفوظ کر لیتے اور پندرہ دنوں کے بعد کھاتے تھے۔ میں نے کہا: کس چیز نے تم کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا؟ تو وہ ہنس پڑیں اور انھوں کہا تھا: آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) لگاتار تین دن سالن والی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کو جا ملے۔