حدیث نمبر: 4705
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَقَّتْ دَافَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الْأَضْحَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَادَّخِرُوا لِثَلَاثٍ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ أَضَاحِيِّهِمْ يَحْمِلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الْأَسْقِيَةَ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالُوا الَّذِي نَهَيْتَ عَنْهُ مِنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ قَالَ إِنَّمَا نَهَيْتُ عَنْهُ لِلدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بدّو لوگوں کی ایک جماعت عید الاضحی کے موقع پر آئی، ان کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور تین دنوں تک ذخیرہ کر سکتے ہو۔ جب اس کے بعد اگلا سال آیا تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ اپنی قربانیوں سے اس طرح فائدہ اٹھا لیتے تھے کہ چربی محفوظ کر لیتے اور مشکیزے بنا لیتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: آپ نے جو پچھلے سال قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے روک دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تو بدّو لوگوں کے آ جانے کی وجہ سے منع کیا تھا، اب تم کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4705
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5570، ومسلم: 1971، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24753»