الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ الذَّبْحِ باب: ذبح کے وقت کا بیان
عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا فَوَجَدَ قُتَارًا فَقَالَ مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ هَذَا يَوْمًا الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ فَذَبَحْتُ لِآكُلَ وَأُطْعِمَ جِيرَانِي قَالَ فَأَعِدْ قَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ أَوْ حَمَلٌ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَاذْبَحْهَا وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ۔ سیدنا ابو زید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھروں کے پاس سے گزرے اور ہمارے ہاں ہنڈیوں کی ایسی بو محسوس کی، جیسے گوشت بھونا جا رہا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کس نے ذبح کر دیا ہے؟ ہمارا ایک آدمی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے، جس میں عام کھانا پسند نہیں کیا جاتا، اس لیے میں نے قربانی کا جانور ذبح کر دیا ہے، تاکہ خود بھی کھاؤں اورہمسائیوں کو بھی کھلاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ قربانی کر۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، اب تو میرے پاس صرف بھیڑ نسل کا جذعہ ہے یا اس کا ایک سال سے کم عمر کا جانور ہے، اس نے تین دفعہ یہ بات دوہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو اس کو ہی ذبح کر دے، لیکن تیرے بعد اس قسم کا جانور کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔