الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
التَّضْحِيَةُ بِالْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ وَبِالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ وَبِالشَّاةِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ باب: اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
عَنْ أَبِي الْأَشَدِّ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَذَبَحَهَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔