حدیث نمبر: 4688
عَنْ أَبِي الْأَشَدِّ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا فَجَمَعَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا دِرْهَمًا فَاشْتَرَيْنَا أُضْحِيَّةً بِسَبْعِ الدَّرَاهِمِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَغْلَيْنَا بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَفْضَلَ الضَّحَايَا أَغْلَاهَا وَأَسْمَنُهَا وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِرِجْلٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِيَدٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَرَجُلٌ بِقَرْنٍ وَذَبَحَهَا السَّابِعُ وَكَبَّرْنَا عَلَيْهَا جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو اشد سلمی اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (سیدنا ابو المعلی یا سیدنا عمرو بن عبسہ) رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم کل سات افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا اور ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہموں کے عوض قربانی کا ایک جانور خرید تو لیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے تو بہت مہنگا جانور لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والی قربانی وہ ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو سب سے زیادہ موٹی تازی ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور ایک آدمی نے پچھلی ٹانگ کو، دوسرے نے بھی دوسری پچھلی ٹانگ کو، ایک نے اگلی ٹانگ کو، دوسرے نے دوسری اگلی ٹانگ کو، ایک نے ایک سینگ کو اور دوسرے نے دوسرے سینگ کو پکڑا اور ساتویں آدمی نے اس کو ذبح کیا اور ہم سب نے تکبیر کہی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … اب ظاہر پرستی اور نمودو نمائش کا دور ہے، کئی لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہیں، وہ مہنگے مہنگے اور ایک سے زائد جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، واضح طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان کا عمل رائیگاں جائے گا، لیکن یہ گزارش ضرور کی جائے گی کہ وہ اپنے عزم کو پاکیزہ کرنے پر توجہ دیں، یعنی وہ سوچیں کہ اس عمل سے ان کا کیا مقصد ہے، کیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں قیمتی جانور پیش کرنا مقصود ہے، یا ان کے سرمائے کا تقاضا ہے، یا لوگوں سے مرعوبیت ہے، یا نمود ونمائش مقصود ہے، اس نقطے پر ان کو کافی غور کرنا پڑے گا، وگرنہ ان سے ایک الزامی سوال بھی کیا جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات سے غافل ہے، حرام امور کا ارتکاب کرتے ہیں، لیکن قربانی کے مسئلہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کیسے یاد آ جاتی ہے؟ اس الزامی سوال کی وجہ یہ ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہے، اس کے شرعی قانون یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے محرمات سے بچ کر فرائض کی ادائیگی کرے اور پھر نوافل اور مستحبات کا اہتمام کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4688
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف بقية بن الوليد، وعثمانُ بن زفر الجھني مجھول، أخرجه الحاكم: 4/ 231، والبيھقي: 9/ 268 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15575»