الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
التَّضْحِيَةُ بِالْبَعِيرِ عَنْ عَشْرَةٍ وَبِالْبَقَرَةِ عَنْ سَبْعَةٍ وَبِالشَّاةِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ الْوَاحِدِ باب: اونٹ کا دس افراد کو، گائے کا سات افراد کو اور ایک بکری کا ایک گھر والوں کو بطورِ قربانی کفایت کرنا
عَنْ أَبِي عَقِيلٍ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ التَّيْمِيِّ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ بِنْتُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَغِيرٌ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَدَعَا لَهُ وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا اور وہ اس طرح کہ ان کی ماں سیدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے بیعت لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو چھوٹا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کے حق میں دعا کی، یہ صحابی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تمام اہل کی طرف سے ایک بکری قربان کرتے تھے۔